images
ربوہ اک ایسی بستی ہے
جہاں رحمت ہی برستی ہے
یوں نور کی محفل جمتی ہے
یوں فضل خدا کا ہوتا  ہے
سنا ہے اس بستی کے ‘باسی رہتے کچھ اداس سے ہیں’
آقا سے اپنے ملنے کی,دل میں لئے اک آس سے ہیں
دن کو دعایں  کرتے ہیں
راتوں کو گریہ ہوتا ہے’
سر سجدے میں پھر رکھ کر یوں,
ہر باسی دل سے روتا ہے
مایوس نہیں وہ ہرگز بھی
مولا پے اپنے ہے انکو یقین
کٹ جائے گا دور سختی کا
لوٹیں گے دن خوشی کے بھی
رکھتی ہے زندہ بس انکو کرن اس امید کی
“ہم آں ملیں گے متوالوں بس دیر ہے کل یا پرسوں کی”
><><><><><><><><><><><><><><><><><><><><><><><><><><><><><><><><><><><
Advertisements