آج دن کا آغاز ہوا تو اس قوم پر آنے والی تاریکی کے ساۓ اور گہرے ہو گۓ  دھرتی ماتا کا حق ادا کرنے اور اپنی قوم کی خدمت کے لیے آنے والے مسیحا کو صرف احمدی ہونے کی وجہ سے شہید کر دیا گیا زہن میں اٹھنے والے چند سوالات سکون کو میلوں دور دھکیل دیتے ہیں 

کیا احمدی انسان نہیں؟

کیا احمدیوں کو جینے کا حق نہیں؟

کیا اس ملک میں جس کے قیام کے لیے ہم نے قربانیاں دی ہمیں رہنے کا کوئی حق نہیں؟

کیا اس ملک میں جس کی حفاظت کے لیے ہم نے جانیں دی ہمیں رہنے کا کوئی حق نہیں؟

 

اور ہمارے معاشرے کے مطابق ان تمام سوالات کے جوابات نفی میں ہیں مگر آخر کب تک یہ قوم یونہی جہالت کے لحافوں کو اوڑھے سوئی رہے گی آخر کب تک ملا کی اندھی تقلید کرتی رہے گی آخر کب تک اس زمانے کی بد ترین مخلوق کے ہاتھوں کھلونا بن کر معصوم اور بےگناہ افراد کو ازیت اور غم میں مبتلا کرتی رہے گی 

ہمارے پیاروں کو تکلیف دے کے ہمارے اپنوں کو شہید کر کے کیا یہ غافل سمجھتے ہیں ہم ڈر جایں گے؟

ہاں ہم ڈرتے ہیں خوفزدہ ہوتے ہیں پر موت کے خوف سے نہیں تم لوگوں کے انجام کے خوف سے 

ہاں ہم ڈرتے ہیں غمزدہ ہوتے ہیں موت کے غم سے نہیں اسلام کے تم لوگوں کے ہاتھوں بدنام ہونے کے غم سے

ہاں ہم ڈرتے ہیں پریشان ہوتے ہیں موت کی پریشانی سے نہیں اپنے اس ملک کی بدنامی سے جسکی بنیادوں میں ہمارا لہو بھی شامل ہے 

 

موت سے ڈر پریشانی اور خوف تو ہمیں تب ہو جب ہم جھوٹے ہوں ہم تو روز اپنے ساتھ اپنے مولا کی نصرت دیکھتے ہیں ہم تو روز اپنے مولا کے شیر کی رہنمائی میں آگے ہی  آگے بڑھتے جا رہے ہیں 

   ارے نادانوں ڈرنا تو تمہیں چاہیے اس خدا سے جسکے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں ڈرو اس وقت سے جب وہ خدا تمہاری پکڑ کو آتے گا

ہمارے ہاتھ میں تو دعاوں کی ڈھال ہے ہم اپنے مولا کے آگے  ہی جھکتے اور مدد مانگتے تھے ہیں اور رہیں گے خدا تم لوگوں کو ہدایت دے اور ہمارے اور تمھارے درمیان فیصلہ کرے.

رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَأَنتَ خَيْرُ الْفَاتِحِينَ      

 

                                  

Advertisements