وہی سوالات وہی جوابات اگرکچھ بدلا ہے تو خدا اور اس کے رسول کی خاطر اپنی جان  قربان کرنے والے کا نام .

وہی کہانی وہی اختتام اگر فرق ہے تو کردار کے نام کا .

مگر آخر یہ کہانی کب تک چلے گی،ہمارے پیاروں کے خوں سے کھیلی جانے والی ہولی آخر کب جاری رہے گی.؟

 

                        “کیا کہیں کس سے کہیں کیسے کہیں شرح ستم 

                          کوئی پیرایہ نظر آتا نہیں اظہار کا “

 

اسلام تو بلا امتیاز رنگ و نسل فرقہ واعتقاد کے سب انسانوں کے لیے انصاف طلب کرنے کی  تعلیم دیتا ہے مگر غزہ میں ہونے والے ظلم و ستم  پر رونےوالے پہلے اپنا  الو کیوں سیدھا نہیں کرتے ؟ ان یہودیوں کو اپنے عمل سے اسلام کو سلامتی کے دین کے طور پر پیش کیوں نہیں کرتے ؟

   ہم تو نہ ان ابتلاوں سے گھبراۓ تھے نہ گھبرانے والے ہیں کیوں کے مسیح وقت جس کے آنے کی خبر قرآن و احادیث میں دی گئی تھی اور دراصل جسکو ماننا ہی ہمارا جرم ہے اس نے ان ابتلاوں کے پیچھے چھپے ترقی کے راز کو یوں بیان کیا ہے کے :

   

                       “سر است زیر تبر صادقان مخلص را 

                         کہ نازند سر قومے کہ دار بلا باشد “

یعنی 

  “سچے مخلص لوگوں کا سر اس لیے تبر کے نیچے ہوتا ہے کہ تا قوم کا سر جو مشکلات میں مبتلا ہیں رہائی پاۓ  “

 

     یہ ابتلایں اور شہادتیں ہمارے لیے زندگی بخش رس ہیں جیسا کہ حضرت خلیفته المسیح الرابع( رحمت الله ) نے فرمایا :

  “ہم خدا کے بندے ہیں اور خدا کے مومن بندے ہیں 

ہم ہلاکتوں سے زندگیاں نچوڑنا جانتے ہیں اس لیے 

یہ جتنی ہلاکتیں ہمارے لیے تجویز کریں گے اتنی ہی

 زیادہ ہم زندگی کا رس ان ہلاکتوں سے نچوڑ لیں گے

 وہ رس ہمیں مزید زندہ کرتا چلا جاۓ گا “


ہمارا تو واحد سہارا خدا کی ذات ہے . جس کے پاس ہی ان ظالموں کے لیے سزا اورہمارے صبر اور قربانیوں کی جزا ہے:

 

  “خدا کی خاطر قربانیاں کرنے والوں کی جزا محدود نہیں ہوتی 

 کیونکہ خدا وہ ذات ہے جو لامحدود ہے اور اس پر کوئی فنا نہیں 

 اس لیے اپ کو خوشخبری ہو کہ آپ کی قربانیوں کی جزا آپ کی ذات تک محدود نہیں بلکہ تاقیامت آپ کی نسلیں ان قربانیوں کا پھل کھاتی رہیں گی “

حضرت خلیفته المسیح الرابع( رحمت الله ) )

   

    پس:

            “عدوجب بڑھ گیا شور و فغاں میں

                نہاں ہم ہوگۓ یار نہاں میں.”

 

 

یا رب فاسمع دعائی و مزق اعدائک و اعدائی و انجز وعدک وانصر عبدک وارنا ایامک و شھرلنا حسامک ولا تذر من الکافرین شریرا

><><><><><><><><><><><><><><><><><><><><><><><><><><><><><><><><><><><><><>

 

 

 

Advertisements