BzR4-kNCQAAtTWO

                      “عندالمناره”                       

 

غالب تھا زمانہ پہ دینِ نصاریٰ

بج رہا تھا ہر طرف جہل کا نقارہ

 

تھی گرداب میں پھنسی ہوئی کشتی اسلام کی

نظر آ رہا تھا نہ کوئی سہارا

 

بیٹھے تھے چھوڑ امید مسلمان بقا کی

ناؤ سے بہت دور دِیکھ رہا تھا کنارہ

 

تب ہی میرے مولا نے بگڑی ہوئی بنا دی

منادی اک اتارا عندالمینارہ

 

کسرِصلیب،قتلِ خنزیر سے جس نے

بلند چار سُو کیا توحید کا نعرہ

 

مہدی و مسیح کا کیا دعویٰ جس نے

اپنے رب سے پا کر اشارہ

 

مٹایا مروجہ رسوم بد کو

بگڑے ہوۓ اسلام کو اُس نے سنوارا

 

پہنچا یہ نور زمین کے کناروں تک

خلافت کے دیے نے کیا جب اُجالا

بادشاہوں پے سراپا برکت برسی

عنایات کا پورا ہوا جو وعدہ

 

مسخرکئے شرق و غرب تمام

بنا کر اپنے قلم کو بھالا

 

دعاؤں کے ایندھن سے تپے گی بھٹی

ہے ذکرِالہی سے اسے گرمانا

 

جاری رہے گا کامرانی کا یہ سفر

بھولنے نہ پاۓ ہمیں فرض ہمارا

><><><><><><><><><><><><><><><>

Advertisements