” امید کی بستی بستی تھی “
ایک دشت میں کہیں پاس یہاں امید کی بستی بستی تھی
وہ بستی محنت کے بل پر
ہر دم ہستی بستی تھی
اس بستی سے تھوڑا دور وہاں
اک سوچ کا دریا بہتا تھا
اس دریا کے کنارے پر
اک قوسِ قزح بھی رچتی تھی
اس قوسِ قزح کے پہلو میں
اک جال بچھا سا رہتا تھا
جکڑ لیتا تھا وہ یکدم
جو چیز بھی اس میں گرتی تھی
اک روز وہاں اس جال میں
اک خواب کہیں سے آ ٹپکا
جال سے باہر نکلنے کی
بےسود ہر اک کوشش تھی
دھیرے دھیرے رنگ سوچوں کا
اُس خواب پے یوں چڑھنے لگا
مٹ کر اس سے ہر اک نقش
بےبسی رقص کرنے لگی
اس رقص کی پرچھائی سے
 قوسِ قزح مدہم هوئی
اور رنگ اپنے چھوڑ گئی
وہ ہستی بستی بستی پھر
ماند اچانک پڑنے لگی
ہر اک کونے میں اس نگری کے
خوف گھر کرنے لگا
اور خوشیوں کی اک کرن
منہ وہاں سے موڑنے لگی
یوں امید کی اس بستی میں
سوچوں کی تاریکی چھائی
اور یاس و الم کی بدلی نے
دکھ کی بارش برسائی
Advertisements