“میں” 

 مجھے منزلوں کی خبر نہیں.
میرے راستے بھی عیاں نہیں.
مجھے جستجو ہے آس کی
میرے خواب مجھ سے جدا نہیں.
میرا آئینہ میرے حرف ہیں
میرے ضبط کو مجھ سے وفا نہیں.
جو بہار لے جاۓ مستقل
یہاں ایسی کوئی خزاں نہیں.
جلا تھا تیری طلب میں جو
وہ چراغ اب تک بھجا نہیں.
Advertisements