” چلو آؤ “
“سنانے والے کئی ہمدم
کئی فسانے سناتے جائیں
نئی رتوں کا نئی سحر کا
وہ ایک گیت گاتے جائیں
خوابوں میں چھپی کہانی
زمانے بھر کو سناتے جائیں
آ کے کتنے ہی رک گۓ
اسی راہ پر،بے خطر
چلو آؤ اک شام بِتاتے جائیں
یہ جو آ رہی ہے اک ہوا
یہی دے رہی ہے ہمیں صدا
چلو آؤ اسی کے دوش پر
اڑان اپنی بھرتے جائیں
دلِ مضطرب کسی موڑ پر
جو رکی ہو نبض کسی شور پر
اسی موڑ سے ، اسی شور سے
اک نئی ترنگ بناتے جائیں “
Advertisements