بات تیرے ذکر سے خالی نہ تھی کبھی
رات تیری فکر سے خالی نہ تھی کبھی

حرف حرف وار سلگتا هوا جیسے
هر ضرب درد سے خالی نہ تھی کبھی

قلب و نظر نے دی تجھے هی پناه جهاں
هر جا اسکی عشق سے خالی نہ تھی کبھی

درد اک دل میں اٹھا هی دیتی هے
آه جو فریاد سے خالی نہ تھی کبھی

کاروبار الفت میں عقل بھی پٹختی هے
ره یار جو خار سے خالی نہ تھی کبھی

یقین سے بالاتر وجود یار لگے
وفا هیبت و کمال سے خالی نہ تھی کبھی.

Advertisements